ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا:امت شاہ نے رکھی جموں وکشمیر میں صدر راج بڑھانے کی تجویز، کانگریس نے کی مخالفت

لوک سبھا:امت شاہ نے رکھی جموں وکشمیر میں صدر راج بڑھانے کی تجویز، کانگریس نے کی مخالفت

Fri, 28 Jun 2019 23:00:24    S.O. News Service

نئی دہلی، 28 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر میں اور 6 ماہ تک صدر راج لگا رہے گا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو جموں کشمیر میں صدر راج 6 ماہ کے لئے بڑھانے سے منسلک پیشکش لوک سبھا میں رکھا۔امت شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں ابھی اسمبلی انتخابات کرانے کا ماحول نہیں ہے، تو 6 ماہ کے لئے اور صدر راج بڑھایا جائے۔وہیں کانگریس لیڈر منیش تیواری نے جموں و کشمیر میں صدر راج کے لیے بڑھائے جانے کے حکومت کی تجویز کی مخالفت کی۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ جب کوئی پارٹی ریاست میں حکومت بنانے کے لئے تیار نہیں تھی تو کشمیر میں گورنر راج لگایا گیا تھا۔اس کے بعد اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ گورنر نے لیا تھا۔نو دسمبر 2018 کو گورنر راج کی مدت ختم ہو گئی تھی اور پھر سیکشن 356 کا استعمال کرتے ہوئے 20 دسمبر سے وہاں صدر راج لگانے کا فیصلہ لیا گیا۔لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 2 جولائی کو 6 ماہ کا وقفہ ختم ہو رہا ہے اور اس وجہ سے اس صدر راج کو بڑھایا جائے کیونکہ وہاں اسمبلی وجود میں نہیں ہے۔امت شاہ نے لوک سبھا میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس سال کے آخر میں انتخابات کرانے کا فیصلہ کریں گے اور اس کے بارے میں مطلع کر دیا جائے گا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ رمضان کا مقدس مہینہ تھا، اب امرناتھ یاترا ہونی ہے، اس کی وجہ سے انتخابات کرانا اس دوران ممکن نہیں تھا۔اس سال کے آخر میں انتخابات کرانے کا فیصلہ لیا گیا۔شاہ نے کہا کہ وہاں صدر راج بڑھانا ضروری ہو گیا ہے اور اس دوران وہاں انتخابات ہو جائیں گے۔وہیں لوک سبھا میں آر ایس پی کے لیڈر این پریم چندرن نے بھی صدر راج بڑھانے کی تجویز کی مخالفت کی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں سرحدی علاقوں میں رہ رہے لوگ کافی وقت سے ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن اب انتخابی فائدہ ہونے کے بعد انہیں یہ ریزرویشن دیا جا رہا ہے۔پریم چندرن نے کہا کہ سیاسی فوائد کے لئے اب یہ بل لایا گیا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے ساتھ کشمیر میں اسمبلی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے، وہ الیکشن بھی پرامن طریقے سے ہو جاتے۔


Share: